میری اس دیوانگی کی اپنی اک رفتار ہے

Madhuvan Rishi Raj

میری اس دیوانگی کی اپنی اک رفتار ہے

عشق میں ہر آدمی کی اپنی اک رفتار ہے

کوئی عاشق کوئی میکش کوئی کوئی مفلس ہے یہاں

ہر کسی کی خودکشی کی اپنی اک رفتار ہے

آپ آگے ہم ہیں پیچھے پر نہیں ہم کو گلہ

ہر کسی کی زندگی کی اپنی اک رفتار ہے

کون ڈھونڈھے دوست پھر سے کون پھر سے کھائے زخم

ہر کسی کی دوستی کی اپنی اک رفتار ہے

تیز قدموں سے بڑھے جاتے ہیں ہم سوئے سراب

اس مسلسل تشنگی کی اپنی اک رفتار ہے