کھلی لاشوں کا قبرستان بن کے
Madhuvan Rishi Rajکھلی لاشوں کا قبرستان بن کے
بہت چپ ہے زمیں ویران بن کے
شریک مجلس درویش ہو کر
ترے در جائیں گے میہمان بن کے
ہے یہ خوں کی ندی تخلیق تیری
کہاں تو چل دیا انجان بن کے
یہاں پر آگ ہے میری لگائی
کہ ہوں شرمندہ میں انسان بن کے