خوابوں میں مصروف ہے تو پر میری یہ بیداری دیکھ
Madhuvan Rishi Rajخوابوں میں مصروف ہے تو پر میری یہ بیداری دیکھ
میری راتوں کی سیاہی میں رنگ خوں کو طاری دیکھ
دیکھ تو میری غربت کو اور میری مردہ آنکھوں کو
میری مردہ آنکھوں سے تو اب بھی آنسو جاری دیکھ
تجھ کو دینے کو ہے میرے پاس بتا کیا کچھ بھی نہیں
تجھ سے باتیں تیری یادیں میری دولت ساری دیکھ
میری جان کے ساتھ ساتھ اب سارے لفظ فنا میرے
ان کو اک اک کر کے جاتے تو اب باری باری دیکھ
ذہن میں اک تصویر تھی تیری اپنی ساری دولت جو
آج یہاں پر کھیل کھیل میں ہم نے وہ بھی ہاری دیکھ
گرد مرے ہر جا ہر دم اک شور سنائی دیتا تھا
خاموشی بھی دیکھ لے اب تو آ کر لاش ہماری دیکھ