اداس کمرے کے کونے کونے میں جیسے غصہ پڑا ہوا ہے
Naeem Naazاداس کمرے کے کونے کونے میں جیسے غصہ پڑا ہوا ہے
یہ کپ میں چائے نہیں ہے پرسوں سے ایک لمحہ پڑا ہوا ہے
ہماری بستی کے سارے باسی نئے سفر پر نکل پڑے ہیں
پرانی چوپال میں پرانی پری کا قصہ پڑا ہوا ہے
ادھوری الفت کا راز ہے یہ کہ سب ادھورے ہی رہ گئے ہیں
یہ زرد پتوں میں آدھا سگریٹ نہیں ہے مصرعہ پڑا ہوا ہے
بچھڑنے والے کی چارپائی سے میری نظریں لپٹ گئی ہیں
کسے خبر ہے کہ چارپائی پہ ایک صدمہ پڑا ہوا ہے
تمہاری جانب میں چلتے چلتے اب اس دوراہے پہ آ کھڑا ہوں
جہاں پہ آنے نہ آنے کے بیچ ایک عرصہ پڑا ہوا ہے