کس میں خوبی ہے جلانے میں کہ جل جانے ہیں
Raj Bahadur Saxena Aujکس میں خوبی ہے جلانے میں کہ جل جانے ہیں
شمع میں سوز زیادہ ہے کہ پروانے میں
لذت درد کو اک خار میسر نہ ہوا
دل کا کانٹا نہ نکالا گیا ویرانے میں
میرے پر درد بیاں نے مجھے مرنے نہ دیا
موت کو نیند سی آئی مرے افسانے میں
آب کوثر تو نہ تھا چشم سیہ میں تیری
پڑ گئی جان تجھے دیکھ کے دیوانے میں
حق پرستی مری کعبہ سے صدا دیتی ہے
دل میں کر یاد خدا بیٹھ کے بت خانے میں
غم غلط کرتا ہوں پی پی کے جگر کے آنسو
شبنمی مے ہے مری آنکھ کے پیمانے میں
مجھ کو جب ساقیٔ مغرور نے ساغر نہ دیا
اوجؔ آنسو نکل آئے مرے میخانے میں