اپنی چپ میں وہ شان سمجھے ہے

M. J. Khalid

اپنی چپ میں وہ شان سمجھے ہے

دل غموں کی زبان سمجھے ہے

خاک سمجھے گا بام و در کا دکھ

وہ جو خود کو مکان سمجھے ہے

خوشبوئیں کیوں خفا خفا سی ہیں

تتلیوں کی اڑان سمجھے ہے

ابھی اس کی سمجھ ہے ناپختہ

تیر کو وہ کمان سمجھے ہے

میرے ہاتھوں کی ان لکیروں کو

گزرے وقتوں کی آن سمجھے ہے

بکھرے بادل کی بد حواسی کو

وہ فضاؤں کی جان سمجھے ہے