یہ درد لا زوال تمہیں کون دے گیا
Qaisar Qalandarیہ درد لا زوال تمہیں کون دے گیا
سرمایۂ جمال تمہیں کون دے گیا
موسیقیوں کی چاندنی نکھری ہے لفظ لفظ
یہ عشرت خیال تمہیں کون دے گیا
اس وادیٔ سکون و مسرت کے باوجود
یہ رنج یہ ملال تمہیں کون دے گیا
کب تک تلاش کیجیئے آسودہ حالیاں
افسردہ ماہ و سال تمہیں کون دے گیا
دل کے قریب ہجر کی رت خیمہ زن ہوئی
تہنیت وصال تمہیں کون دے گیا
مفقود ہو گئی ہیں یہاں لب کشائیاں
یہ ڈھیر بھر سوال تمہیں کون دے گیا
رعنائیوں کے لب پہ مکرر سوال ہے
بے عیب خد و خال تمہیں کون دے گیا