آنسوؤں کے پھول پھل کا ذائقہ کچھ اور تھا

M. J. Khalid

آنسوؤں کے پھول پھل کا ذائقہ کچھ اور تھا

درد کی شاخوں پہ کھلنے کا مزا کچھ اور تھا

تم نے کیا کیا سونپ ڈالے مصلحت کی دھوپ کو

سائبانی کے سفر کا سلسلہ کچھ اور تھا

سرمدی سوچیں فلک رتبہ ہوئیں میرے طفیل

شہر کے پیغامبر کا مشورہ کچھ اور تھا

لفظ کے ہاتھوں ہوئی رسوائی میرے شعر کی

فکر کے کشکول میں تو یا خدا کچھ اور تھا