ابھی ابھی اک ہوا کا جھونکا

Saleem Kausar

ابھی ابھی اک ہوا کا جھونکا

جو تیرا لہجہ

جو تیرے گیتوں پہیلیوں کا امین بن کر

سماعتوں کو

ہزار لفظوں کی داستانیں سنا گیا ہے

ابھی ابھی بے کراں سا لمحہ

جو کتنی صدیوں کا بوجھ اٹھائے

گزر گیا ہے

جو میری آنکھوں میں سوئے منظر جگا گیا ہے

ابھی ابھی تیرا اک صحیفہ اک عہد بن کر

دیار دل میں اتر گیا ہے

مرا بدن ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گیا ہے

میں دیکھتا ہوں

کہ نام تیرا

زبان تیری

کلام تیرا

زمیں کی پستی سے

آسماں کی بلندیوں تک

ہر آنے والے نصاب لمحے کا

پیشوا ہے

میں سوچتا ہوں

کہ تجھ پہ لکھوں

جو تجھ پہ لکھا

تو حرف میرے

ہوا میں تحلیل ہو گئے ہیں

میں چاہتا ہوں

کہ تجھ کو سوچوں

جو تجھ کو سوچا

تو ذات تیری

پہیلیوں میں الجھ گئی ہے