صبح سویرے سڑکوں پر جاتے اونٹوں کے گلے میں

Saleem Kausar

صبح سویرے سڑکوں پر جاتے اونٹوں کے گلے میں

بولتی گھنٹی کی آواز ہوا کے تیروں سے زخمی ہے

اور کسی کی نظر نہیں ہے

دور سفر پر گئے ہوؤں کے رستوں پر ان گنت دعائیں بچھی ہوئی ہیں

اور کسی کو خبر نہیں ہے

سب دیکھے ان دیکھے دکھ

آسیب زدہ تحریروں کو چہرے پر ملتے پھرتے ہیں

اور کئی برس سے یوں ہوتا ہے

دریا سونا مٹی پیچھے چھوڑ آتے ہیں

صحرا کو آبادی کے ساحل پر پھیلاتے آگے بڑھ جاتے ہیں

رزق کے پیچھے بھاگتی آنکھیں جسموں کے ڈھانچوں میں الجھ گئی ہیں

کوئی بساط وقت پہ رکھے مہروں کو چلنے سے پہلے

ایک نظر ان سب چہروں پر ڈالتا ہے

پھر اک مہرہ چل دیتا ہے

دور پہاڑوں کے اس جانب جلتا سورج رات کے خیموں میں چپ بیٹھا

آنے والے کل کی بابت سوچ رہا ہے