Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. مٹی کا بدن کر دیا مٹی کے حوالےمٹی کو کہیں تاج محل میں نہیں رکھاMunawwar Rana
  2. محبت ایک پاکیزہ عمل ہے اس لیے شایدسمٹ کر شرم ساری ایک بوسے میں چلی آئیMunawwar Rana
  3. منور ماں کے آگے یوں کبھی کھل کر نہیں روناجہاں بنیاد ہو اتنی نمی اچھی نہیں ہوتیMunawwar Rana
  4. میں نے کل شب چاہتوں کی سب کتابیں پھاڑ دیںصرف اک کاغذ پہ لکھا لفظ ماں رہنے دیاMunawwar Rana
  5. نکلنے ہی نہیں دیتی ہیں اشکوں کو مری آنکھیںکہ یہ بچے ہمیشہ ماں کی نگرانی میں رہتے ہیںMunawwar Rana
  6. ہم نہیں تھے تو کیا کمی تھی یہاںہم نہ ہوں گے تو کیا کمی ہوگیMunawwar Rana
  7. ہنس کے ملتا ہے مگر کافی تھکی لگتی ہیںاس کی آنکھیں کئی صدیوں کی جگی لگتی ہیںMunawwar Rana
  8. یہ سوچ کے ماں باپ کی خدمت میں لگا ہوںاس پیڑ کا سایا مرے بچوں کو ملے گاMunawwar Rana
  9. آب و ہوا ہے برسر پیکار کون ہےمیرے سوا یہ مجھ میں گرفتار کون ہےSaleem Kausar
  10. اب فیصلہ کرنے کی اجازت دی جائےیا پھر ہمیں منزل کی بشارت دی جائےSaleem Kausar
  11. ابھی جو گردش ایام سے ملا ہوں میںسمجھ رہی تھی کسی کام سے ملا ہوں میںSaleem Kausar
  12. ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گامری وحشت پہ صحرا تنگ ہوتا جا رہا ہےSaleem Kausar
  13. اجنبی حیران مت ہونا کہ در کھلتا نہیںجو یہاں آباد ہیں ان پر بھی گھر کھلتا نہیںSaleem Kausar
  14. اس عالم حیرت و عبرت میں کچھ بھی تو سراب نہیں ہوتاکوئی نیند مثال نہیں بنتی کوئی لمحہ خواب نہیں ہوتاSaleem Kausar
  15. اک گھڑی وصل کی بے وصل ہوئی ہے مجھ میںکس کے آنے کی خبر قتل ہوئی ہے مجھ میںSaleem Kausar
  16. اے شب ہجر اب مجھے صبح وصال چاہئےتازہ غزل کے واسطے تازہ خیال چاہئےSaleem Kausar
  17. بدل گیا ہے سبھی کچھ اس ایک ساعت میںذرا سی دیر ہمیں ہو گئی تھی عجلت میںSaleem Kausar
  18. بس اک رستہ ہے اک آواز اور ایک سایا ہےیہ کس نے آ کے گہری نیند سے مجھ کو جگایا ہےSaleem Kausar
  19. پھر جی اٹھے ہیں جس سے وہ امکان تم نہیںاب جو بھی کر رہا ہے یہ احسان تم نہیںSaleem Kausar
  20. تارے جو کبھی اشک فشانی سے نکلتےہم چاند اٹھائے ہوئے پانی سے نکلتےSaleem Kausar
  21. تجھ سے بڑھ کر کوئی پیارا بھی نہیں ہو سکتاپر ترا ساتھ گوارا بھی نہیں ہو سکتاSaleem Kausar
  22. تم نے سچ بولنے کی جرأت کییہ بھی توہین ہے عدالت کیSaleem Kausar
  23. تو سورج ہے تیری طرف دیکھا نہیں جا سکتالیکن دیکھنے والوں کو روکا نہیں جا سکتاSaleem Kausar
  24. چراغ یاد کی لو ہم سفر کہاں تک ہےیہ روشنی مری دہلیز پر کہاں تک ہےSaleem Kausar
  25. چشم بے خواب ہوئی شہر کی ویرانی سےدل اترتا ہی نہیں تخت سلیمانی سےSaleem Kausar
  26. دست دعا کو کاسۂ سائل سمجھتے ہوتم دوست ہو تو کیوں نہیں مشکل سمجھتے ہوSaleem Kausar
  27. دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دل داری پردیکھ اب وہ بھی اتر آیا اداکاری پرSaleem Kausar
  28. دل سیماب صفت پھر تجھے زحمت دوں گادور افتادہ زمینوں کی مسافت دوں گاSaleem Kausar
  29. ڈوبنے والے بھی تنہا تھے تنہا دیکھنے والے تھےجیسے اب کے چڑھے ہوئے تھے دریا دیکھنے والے تھےSaleem Kausar
  30. سراسر نفع تھا لیکن خسارہ جا رہا ہےتو کیا جیتی ہوئی بازی کو ہارا جا رہا ہےSaleem Kausar
  31. سفر کی ابتدا ہوئی کہ تیرا دھیان آ گیامری زمیں کے سامنے اک آسمان آ گیاSaleem Kausar
  32. طلسم خانۂ اسباب میرے سامنے تھامرا ہی دیکھا ہوا خواب میرے سامنے تھاSaleem Kausar
  33. قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیںکتنی آزادی سے ہم اپنی حدوں میں قید ہیںSaleem Kausar
  34. کبھی ستارے کبھی کہکشاں بلاتا ہےہمیں وہ بزم میں اپنی کہاں بلاتا ہےSaleem Kausar
  35. کبھی موسم ساتھ نہیں دیتے کبھی بیل منڈیر نہیں چڑھتیلیکن یہاں وقت بدلنے میں ایسی کوئی دیر نہیں لگتیSaleem Kausar
  36. کچھ بھی تھا سچ کے طرف دار ہوا کرتے تھےتم کبھی صاحب کردار ہوا کرتے تھےSaleem Kausar
  37. کس کی تحویل میں تھے کس کے حوالے ہوئے لوگچشم گریہ میں رہے دل سے نکالے ہوئے لوگSaleem Kausar
  38. کوئی سچے خواب دکھاتا ہے پر جانے کون دکھاتا ہےمجھے ساری رات جگاتا ہے پر جانے کون جگاتا ہےSaleem Kausar
  39. کوئی یاد ہی رخت سفر ٹھہرے کوئی راہ گزر انجانی ہوجب تک مری عمر جوان رہے اور یہ تصویر پرانی ہوSaleem Kausar
  40. کہانی لکھتے ہوئے داستاں سناتے ہوئےوہ سو گیا ہے مجھے خواب سے جگاتے ہوئےSaleem Kausar
  41. کہیں تم اپنی قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتےتو شاید ہم بھی اپنا راستہ تبدیل کر لیتےSaleem Kausar
  42. کیا بتائیں فصل بے خوابی یہاں بوتا ہے کونجب در و دیوار جلتے ہوں تو پھر ہوتا ہے کونSaleem Kausar
  43. کیسے ہنگامۂ فرصت میں ملے ہیں تجھ سےہم بھرے شہر کی خلوت میں ملے ہیں تجھ سےSaleem Kausar
  44. لو کو چھونے کی ہوس میں ایک چہرہ جل گیاشمع کے اتنے قریب آیا کہ سایا جل گیاSaleem Kausar
  45. ملاقاتوں کا ایسا سلسلہ رکھا ہے تم نےبدن کیا روح میں بھی رت جگا رکھا ہے تم نےSaleem Kausar
  46. ملنا نہ ملنا ایک بہانہ ہے اور بستم سچ ہو باقی جو ہے فسانہ ہے اور بسSaleem Kausar
  47. مہلت نہ ملی خواب کی تعبیر اٹھاتےہم مارے گئے ٹوٹے ہوئے تیر اٹھاتےSaleem Kausar
  48. میں اسے تجھ سے ملا دیتا مگر دل میرےمیرے کچھ کام نہیں آئے وسائل میرےSaleem Kausar
  49. میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےسر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہےSaleem Kausar
  50. نہ اس طرح کوئی آیا ہے اور نہ آتا ہےمگر وہ ہے کہ مسلسل دیئے جلاتا ہےSaleem Kausar