آؤ کمرے سے نکلتے ہیں کہیں چلتے ہیں
Saleem Kausarآؤ کمرے سے نکلتے ہیں کہیں چلتے ہیں
روزن حبس میں ٹھہری ہوئی زنداں کی ہوا
پا بہ زنجیر کئے جاتی ہے
ہر طرف خوف بھری آنکھوں میں
ایک تلوار سی لہراتی ہے
کوئی در باز نہیں
زیر لب بھی کوئی آواز نہیں
ایسا اندیشۂ کم یابیٔ حرف
کچھ بھی تو یاد نہیں
ہم کوئی بات سلیقے سے نہیں کہتے تھے
اس پہ بھی شوخئ گفتار کا عالم یہ تھا
ایک پل چپ بھی نہیں رہتے تھے
آؤ کمرے سے نکلتے ہیں کہیں چلتے ہیں
دور پیڑوں سے الجھتی ہوئی خوابیدہ ہوا کا دامن
چپکے سے کھینچتے ہیں
آؤ کہیں بیٹھتے ہیں
ہم وہی آب و ہوا بھی ہے وہی
اثر آب و ہوا کوئی نہیں
سانس لینے کی سزا بھی ہے وہی
اور پھر ایسی سزا کوئی نہیں
تیشۂ جبر سے ٹکرائے ہوئے ہاتھوں میں
نامۂ عہد وفا بھی ہے وہی
اس میں بھی بوئے وفا کوئی نہیں
اور اگر ہے
تو پتا کوئی نہیں
آؤ پھر ایسا کریں
دل میں جو کچھ بھی ہے تحریر کریں پانی پر
یا پھر اک دوجے کی پیشانی پر
آب اور آگ کے اس کھیل میں معلوم نہیں
کون ہے کس کی نگہبانی پر
پھر بھی محسوس تو ہوتا ہے ہمیں
کوئی مامور ہے نگرانی پر
کوئی آواز
کوئی حرف صدا
زیر لب کوئی دعا
یا کوئی چیخ کہ سناٹے کی دیوار گرے
اور لگاتار گرے
آؤ کمرے سے نکلتے ہیں کہیں چلتے ہیں
ہم جو حیرانی سے اک دوسرے کو تکتے ہیں