جو تو تصویر کرتا ہے
Saleem Kausarجو تو تصویر کرتا ہے
جو میں تحریر کرتا ہوں
نہ تیرا ہے نہ میرا ہے
مگر اپنا ہے یہ جب تک
اسے پڑھنے میں کتنی دیر لگتی ہے
ابھی ماحول کو چاروں طرف سے
حبس کے صحرا نے گھیرا ہے
مگر کب تک
ہوا چلنے میں کتنی دیر لگتی ہے
کوئی زنجیر ہے شاید ہمارے پاؤں میں
اور راہ میں کافی اندھیرا ہے
مگر کب تک
دیا جلنے میں کتنی دیر لگتی ہے
ہوائیں بادبانوں سے الجھتی اور کہیں ناقہ سواروں کو
کوئی پیغام دیتی شام کے آنچل کو تھامے
ساحلوں کی سمت آتی ہیں
پرندے دائروں میں اڑتے پھرتے
ابر کی چادر میں لپٹے
رنگ برساتے
فضاؤں میں سفر کی داستاں لکھتے
ٹھکانوں کی طرف جاتے ہوئے
منظر کو اپنے عکس میں تبدیل کرتے ہیں
اچانک سر پھری موجیں
مجھے چھو کر گزر جاتی ہیں
اور میں اپنے تلووں سے نکلتی سنسناتی ریت کی سرگوشیاں
محسوس کرتا ہوں
وہی میں ہوں وہی اسباب وحشت ہیں وہی ساحل
وہی تو ہے وہی ہنستی ہوئی آنکھیں
تری آنکھوں میں رنگوں اور خوابوں کے جزیرے
جگمگاتے ہیں
سر مژگاں روپہلی ساعتوں کے استعارے مسکراتے ہیں
ہنسی مہتاب بنتی ہے
پھر اس مہتاب کے چاروں طرف آواز کا ہالہ ابھرتا ہے
اور اس ہالے میں تیری انگلیاں
نادیدہ منظر کو طلسم خواب سے آزاد کرتی ہیں
ترے ہاتھوں کی جنبش
دھوپ چھاؤں سے دھنک ترتیب دے کر
خالی تصویروں میں خد و خال کو آباد کرتی ہے
تری پلکیں جھپکتی ہیں
ستارے سے ستارہ آن ملتا ہے
کہ جیسے شام ہوتے ہی
سبک آثار لہروں میں
کنارے سے کنارہ آن ملتا ہے
یہ جو کچھ ہے
بہت ہی خوب صورت ہے
مگر اس کے لئے ہے
جو یہ سب محسوس کرتا ہے
تجھے معلوم بھی ہو جائے تو کیا فرق پڑتا ہے
ابھی دن کا تھکا ہارا مسافر دھوپ کے خیمے سمیٹے
دور پانی میں اترنے کے لئے
بے تاب ہے دیکھو
یہ نیلا آسماں
اپنی گراں خوابی میں خود غرقاب ہے دیکھو
نہ جانے کیوں
سمندر دیکھنے والوں کو
سورج ڈوبنے کا خوف رہتا ہے
کوئی ہے جس کو اسم آب آتا ہو
کناروں کی طرح ہر لمحہ کٹ گرتا ہو
زیر آب آتا ہو
سمندر آسماں کی راہداری ہے
مگر اس راہداری تک پہنچنے کا کوئی رستہ
بڑی مشکل سے ملتا ہے
یہ اسم آب
ساحل پر کھڑے نظارہ بینوں کی سمجھ میں کس طرح آئے
کہ یہ تو ڈوبنے والوں پہ بھی
مشکل سے کھلتا ہے
مگر کب تک
اسے کھلنے میں کتنی دیر لگتی ہے