دیکھو باہر آگ لگی ہے
Saleem Kausarدیکھو باہر آگ لگی ہے
دروازے پر نئی رتوں کی خوشبو روتی ہے
اور اندر بیتے موسم ویرانی پر ہنستے ہیں
پھر بھی بے منظر آنکھیں امید کا جھولا جھولتی ہیں
پھر بھی دل سناٹے کو آواز بنائے جاتا ہے
کسے بلاتا ہے
دیکھو باہر آگ لگی ہے
دروازے پر نئی رتوں کی خوشبو روتی ہے
اور اندر بیتے موسم ویرانی پر ہنستے ہیں
پھر بھی بے منظر آنکھیں امید کا جھولا جھولتی ہیں
پھر بھی دل سناٹے کو آواز بنائے جاتا ہے
کسے بلاتا ہے