یاد کہاں رکھنی ہے تیرا خواب کہاں رکھنا ہے

Saleem Kausar

یاد کہاں رکھنی ہے تیرا خواب کہاں رکھنا ہے

دل میں یاد پھر آنکھوں میں مہتاب کہاں رکھنا ہے

وہ کہتا ہے آخری باب عشق مکمل کر لیں

اور میں سوچ رہا ہوں پہلا باب کہاں رکھنا ہے

حسن کی یکتائی کا بس اتنا احساس ہے مجھ کو

کانٹوں کی ترتیب میں ایک گلاب کہاں رکھنا ہے