امن کی چادر میں

Saleem Kausar

امن کی چادر میں

بارود اور مہلک ہتھیاروں کی گٹھڑی باندھ کے

دنیا بھر میں بھیجنے والے بے حس لوگو

اپنی سازش گاہ سے باہر جھانک کے دیکھو

چہرے پر جانی پہچانی بے مقصد سی کچھ تحریریں

تھکے ہوئے پیروں میں بھاگتے رستوں کی ساکت زنجیریں

جیسے آزادی کے گھر میں قید ہوں دو ننگی تصویریں

خشک لبوں پر پیاس بھری تلخی کے سارے ذائقے لکھے

خالی پیٹ کو آنکھوں کی دہلیز پہ رکھے

سامنے ایک سڑک کے موڑ پہ

دو زندہ سائے روتے ہیں

چہرے مہرے رنگ اور نسل میں

بالکل تم جیسے ہوتے ہیں

میلے جسم پر اندر کا احوال سجائے

ہاتھوں کو کشکول بنائے

آنے جانے والوں سے کہتے رہتے ہیں

بابا کوئی کام کرا لو

اور اس کے بدلے میں ہم کو

روٹی لا دو

بھوک مٹا دو