تمہیں خبر ہے کہا تھا تم نے

Saleem Kausar

تمہیں خبر ہے کہا تھا تم نے

میں لفظ سوچوں میں لفظ بولوں میں لفظ لکھوں

میں لفظ لکھنے پہ زندگی کے عزیز لمحوں کو نذر کر دوں

میں لفظ لکھوں

اور ان کی آنکھوں میں منجمد رتجگوں کو اپنے لہو کی تازہ حرارتیں دے کے

جگمگا دوں

تو میں بڑا ہوں

تمہیں خبر ہے

مری رگوں میں بڑے قبیلے کے شاہزادے کا خون زندہ رواں دواں ہے

جسے محبت کے دشمنوں بے ضمیر لوگوں نے

پیار کرنے کے جرم میں قتل کر دیا تھا

یہی نہیں بلکہ خود کو منصف بنا لیا تھا

کسی نے بھی خوں بہا نہ مانگا

کہ شہر محنت کے سب بزرگوں نے درگزر کا سبق دیا تھا

مگر وہ میں تھا کہ لفظ لکھے

تمہیں خبر ہے

کہ میری بوڑھی عظیم ماں نے جوان بیٹوں کو حادثوں کے

سپرد کر کے دعائیں مانگیں

خدائے برتر مرے لہو کو امر بنا دے

دعائیں مانگیں تو ان کے چہرے پہ گزرے موسم کے سارے دکھ

سلوٹوں کی صورت ابھر گئے ہیں

مگر وہ مفلوج ہو گئی ہے

یقین جانو کہ میں نے ایسے عذاب لمحوں میں لفظ لکھے

تمہیں خبر ہے

بڑی حویلی کے رہنے والے تمام لوگوں کو چھوڑ کر میں نے لفظ لکھے

تمہیں خبر ہے

میں لہلہاتے حسین کھیتوں کو چھوڑ شہر کی بے اماں

فصیلوں میں آگیا ہوں

اور اپنے سائے کی کھوج میں ہوں

کہیں ملے تو میں لفظ لکھوں

نہیں ملے تو میں لفظ لکھوں

تمہیں خبر ہے کہا تھا تم نے

کہ وقت منصف ہے

اور وہ فیصلہ کرے گا