وہی کار دنیا

Saleem Kausar

وہی کار دنیا

وہی کار دنیا کے اپنے جھمیلے

وہی دل کی حالت

وہی خواہشوں آرزوؤں کے میلے

وہی زندگی سے بھری بھیڑ میں چلنے والے سبھی لوگ

اپنی جگہ پر اکیلے

کئی گرد آلود منظر نگاہوں کی دہلیز پر جم گئے ہیں

مجھے یوں لگا جیسے چلتے ہوئے وقت کے قافلے تھم گئے ہیں

ذرا سیڑھیوں سے ادھر میں نے دیکھا

وہی شہر ہے اور وہی شہر کی بے کرامت فضا ہے

وہی خلق ہے اور وہی خلق کے بھول جانے کی اپنی ادا ہے

وہی راستے ہیں وہی بے سہولت سفر کی سزا ہے

وہی سانس لینے کو جینے کو بے مہر آب و ہوا ہے

وہی زندگی ہے وہی اس کے چاروں طرف بے تحفظ ردا ہے

وہی سیڑھیوں سے ادھر راہداری کے بائیں طرف خالی کمرہ

تری گفتگو سے بھرا خالی کمرہ

ترے قہقہوں کے سمندر میں ڈوبا ہوا آنسوؤں کا جزیرہ

جزیرے میں اڑتا ہوا اک پرندہ

منڈیروں دریچوں درختوں کی تنہائیوں کا مداوا پرندہ

تری چاہتوں اور وفاداریوں کے افق پر ستارہ نما اک پرندہ

ترے گیت گاتا

تمناؤں کی بارشوں میں نہاتا

کسی تازہ امکان کو جگمگاتا

کہیں دور پھیلی ہوئی کہکشاؤں میں گم ہو گیا ہے

ذرا سیڑھیوں سے ادھر میں نے دیکھا

کئی لکھنے والے

خوشامد کا کاسہ لئے اپنے غیبت کدے میں کھڑے ہیں

سیاسی وڈیرے

مساوات کا نام لے کر ہمیشہ غریب آدمی کی انا سے لڑے ہیں

کئی اہل دانش

جو مظلوم کی آہ و زاری پہ دکھتے تھے

ظالم کے در پر پڑے ہیں

یہاں کوئی چھوٹا نہیں ہے

سب اک دوسرے سے بڑے ہیں

تری شاعری کا خمیر اپنے جذبوں کی سچائیوں سے اٹھا تھا

تو اپنے اصولوں کے آتش فشاں پر کھڑا

زندگی کی ریا کاریوں سے نبرد آزما تھا

تو اپنے رویوں کی سب حالتوں میں

محبت سے لکھی ہوئی اک دعا تھا

تو اہل وفا کا ضمیر آشنا تھا

ابھی سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے میں رک سا گیا ہوں

وہاں کون ہے

کون ہے اب جو دستک کی پہلی کرن کی حکایت سنے گا

نئے رتجگوں کی مسافت میں الجھے ہوئے آنے والے دنوں کی

روایت سنے گا

چراغوں کی آواز میں

آئنوں کی تلاوت سنے گا

مرے شاعر خوش نوا

تو کہ دشمن بھی اچھا تھا

اور دوستی میں بھی تیرا یہاں کوئی ثانی نہیں ہے

جسے اہل دل بھول جائیں گے

تو وہ کہانی نہیں ہے