تم ہی اچھے تھے کسی سے کبھی تکرار نہ کی
Saleem Kausarتم ہی اچھے تھے کسی سے کبھی تکرار نہ کی
تم کہ تکرار کے خوگر بھی نہ تھے
تم ہی اچھے تھے
جو منجملۂ ارباب نظر رہتے تھے
شہر پر حوصلہ میں
شیوۂ اہل ہنر پر کبھی تنقید نہ کی
اتنے بے بس تھے کہ جب وقت پڑا
اپنی بھی تائید نہ کی
ہم برے لوگ ہیں سچ کہتے ہیں
ہم برے لوگ ہیں خوش نودیٔ ارباب اثر کے باغی
کبھی قطرے کو سمندر نہ لکھا
کسی ذرے کو بھی صحرا نہ کہا
قرض آئینہ چکانے کے لئے عکس سے محروم ہوئے
اور انساں سے محبت کا صلہ
اک سزا یافتہ مجرم کی طرح زندہ ہیں