وہ آنکھیں جن سے ملاقات اک بہانہ ہوا
Saleem Kausarوہ آنکھیں جن سے ملاقات اک بہانہ ہوا
انہیں خبر ہی نہیں کون کب نشانہ ہوا
ستارۂ سحری کا بھروسہ مت کیجو
نئے سفر میں یہ رخت سفر پرانا ہوا
نہ جانے کون سی آتش میں جل بجھے ہم تم
یہاں تو جو بھی ہوا ہے درون خانہ ہوا
کچھ اس طرح سے وہ شامل ہوا کہانی میں
کہ اس کے بعد جو کردار تھا فسانہ ہوا
اسی ستارے نے بھٹکا دیا سر منزل
سفر پہ جو مری تحویل میں روانہ ہوا
سنا ہے تجھ کو تو ہم یاد بھی نہیں آتے
یہ امتحاں تو نہیں یہ تو آزمانا ہوا
ہمیں تو عشق مقدر ہے جیسے رزق سلیمؔ
سو چل پڑیں گے جہاں اپنا آب و دانہ ہوا