عظیم ماں

Saleem Kausar

عظیم ماں

تو نے اپنے بیٹوں کو

بیوگی کی سیاہ چادر میں روشنی کا سبق پڑھایا

عظیم ماں

تو نے دکھ اٹھائے کہ تیرے بیٹے جوان ہوں گے

تو عمر بھر کی مسافتوں کا خراج لوں گی

تمام حصے وراثتوں کے

تمام لمحے محبتوں کے

تمام آنسو مسرتوں کے

جوان ہوں گے تو اپنے بیٹوں میں بانٹ دوں گی

عظیم ماں تیرے سارے بیٹے جواں ہوئے ہیں

تو اب یہ پلکوں پہ آنسوؤں کی سبیل کیسی

افق کے اس پار خالی آنکھوں کے جال پھیلائے

اب تو کس شے کی منتظر ہے