ہوا بند ہے

Saleem Kausar

ہوا بند ہے

سانس آتی نہیں

اسقدر شور ہے

کوئی آواز کانوں میں آتی نہیں

کب سے تازہ گلابوں کی شاخوں پہ

کلیوں کو کھلنے کی مہلت نہیں مل رہی

شہر میں تم بھی ہو ہم بھی ہیں

پھر بھی دونوں کو ملنے کی فرصت نہیں مل رہی

سب کے سب جبر کی حالتوں میں جئے جا رہے ہیں

کسی کو بھی اپنی محبت نہیں مل رہی

ہوا بند ہے سانس آتی نہیں

اسقدر شور ہے

کوئی آواز کانوں میں آتی نہیں