ٹوٹے پھوٹے وعدوں سے
Saleem Kausarٹوٹے پھوٹے وعدوں سے
خوش فہمیوں کا کشکول سجائے
مجھ میں رہنے کی خاطر تم آئے
اس سے پہلے میں دروازہ کھولوں
کچھ بولوں
افواہوں کی گرد میں لپٹے زہر آلود محبت نامے لئے ہوئے تم
ادھڑے ہوئے رشتوں کے جامے سیے ہوئے تم
مجھ میں آن سمائے
میں رہنے کے لئے بنا ہوں
جو آئے مجھ میں رہ جائے
مجھے سجائے
جتنا پیار کرے اتنا سکھ پائے
تم سے پہلے بھی کچھ لوگ یوں ہی آئے تھے
اپنے اندر مجھ میں تبدیلی کے خواب سجا لائے تھے
اور پھر اک دن
جس نے جو بھی عہد کیا وہ توڑ دیا
جس نے جو بھی بات کہی وہ رد کر دی
لیکن تم نے تو حد کر دی
میرے دن ویران ہوئے ہیں
میری صبح کے چہرے پر کتنی راتوں کے زخم لگے ہیں
میری شام اداس کھڑی ہے
میرے افق پر سورج لہولہان پڑا ہے
دیواروں سے خوں رستا ہے
دروازوں سے میرا اک اک راز عیاں ہے
میرے صحن میں دشمن کی سازش رقصاں ہے
سنا ہے اب اس حال میں مجھ کو چھوڑ کے تم جانے والے ہو
میرے باہر بیٹھ کے میری یاد کا غم کھانے والے ہو
تم سے اور امید بھی کیا ہو
تم بھی تو دنیا والے ہو
جب تک عشق سے عشق نہیں ملتا تنہا دکھ سہنا ہے
گھر کی فکر تو اس کو ہوگی جس کو گھر میں رہنا ہے