Poetry
Poet
Meter
- جلا کر خود کو تیری آنکھ کا کاجل بناؤں گاجو تشنہ لب ہے یہ ساون اسے بادل بناؤں گاNadeem Naqsh Jewari (b. 1995)
- آپ کی سوچ سے زیادہ تھاایک دن میرے پاس اتنا تھاDaniyal Zaman (b. 1996)
- اک سانس جدا کھینچ اگر کھینچ سکے تواس گرد میں آ کھینچ اگر کھینچ سکے توDaniyal Zaman (b. 1996)
- اوصاف آب کے ہیں تو تاثیر آگ کیہر زاویے سے کھینچ لی تصویر آگ کیDaniyal Zaman (b. 1996)
- برق رفتار ہم بھی دیکھتے ہیںتو ہمیں مار ہم بھی دیکھتے ہیںDaniyal Zaman (b. 1996)
- جاں گنواؤں کہ سر بچا لوں میںکوئی تلوار تو اٹھا لوں میںDaniyal Zaman (b. 1996)
- جھوٹ سچ خواب یقیں وہم گماں مرتے ہیںجو کہیں بھی نہیں مرتے وہ یہاں مرتے ہیںDaniyal Zaman (b. 1996)
- سفر کی شرط پہ جو بھی بنی گزاری ہےبدل بدل کے جگہ زندگی گزاری ہےDaniyal Zaman (b. 1996)
- کس کس کو زیر آب ہوا کی تلاش ہےکہتا ہے ہر حباب ہوا کی تلاش ہےDaniyal Zaman (b. 1996)
- کھوج کی اور نشاں سے کود گیامیں کہاں تھا کہاں سے کود گیاDaniyal Zaman (b. 1996)
- ممکن نہیں ہے جو یہاں ہا ہو نکال دےاس مشتعل ہجوم سے آ تو نکال دےDaniyal Zaman (b. 1996)
- میں گام گام پہ جو سانس سانس مرتا ہوںیہ زندگی وہ تکبر ہے جو میں کرتا ہوںDaniyal Zaman (b. 1996)
- وہ شور تھا کہ لفظ نہیں ہے زبان پرآواز قتل ہونے لگی حرف دان پرDaniyal Zaman (b. 1996)
- یہ ہنر تو تری تخلیق کی تشہیر سے ہےکوئی دیوار سے ہے اور کوئی تصویر سے ہےDaniyal Zaman (b. 1996)
- آخر یہ روز روز کی وحشت نکل گئیاک دن ہمارے دل سے محبت نکل گئیOm Awasthi (b. 1996)
- اس سے پہلے کہ میرا ذہن سنبھالے مجھ کویہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کوOm Awasthi (b. 1996)
- اس کی یادوں کو کبھی دل سے نکالا نہ گیاسبز ڈالی تھی جہاں پیڑ وہ کاٹا نہ گیاOm Awasthi (b. 1996)
- اک ندی کی دھار کا لے کر سہارا آ گئےساری دنیا گھوم کے تجھ تک دوبارہ آ گئےOm Awasthi (b. 1996)
- پھینکی ہے فتح یاب نے دستار کھینچ کرپہلے یہ کام ہوتا تھا تلوار کھینچ کرOm Awasthi (b. 1996)
- دھوئیں میں اڑ گئیں سانسیں سگار ختم ہوااسی کے ساتھ ترا انتظار ختم ہواOm Awasthi (b. 1996)
- رہ کر زمیں پہ چاند کے دیدار کے لئےدفتر میں دن گزرتے ہیں اتوار کے لئےOm Awasthi (b. 1996)
- طویل رات کی گہرائیوں میں کچھ بھی نہیںیقیں نہیں تو شناسائیوں میں کچھ بھی نہیںOm Awasthi (b. 1996)
- طویل عشق کی چاہت تھی مختصر نہ ملاہمارے جیسوں کو یہ تحفہ عمر بھر نہ ملاOm Awasthi (b. 1996)
- مطلب پتا نہیں تھا بتانے چلے گئےہم عشق کرکے عشق نبھانے چلے گئےOm Awasthi (b. 1996)
- میں جانتا ہوں کہ اک دن یہاں سے نکلے گیہماری روح بدن کے مکاں سے نکلے گیOm Awasthi (b. 1996)
- ہونا تو نہیں چاہیئے پر یار ہوا تورہبر ہی مری راہ کی دیوار ہوا توOm Awasthi (b. 1996)
- تڑپ ایسی کہ بس دن رات آہیں بھرتے جاتے ہیںتمہارے عشق میں بے موت عاشق مرتے جاتے ہیںYasir Rampuri (b. 1996)
- جینے کی تھی جو دل میں تمنا وہ مر گئیتم کیا گئے کہ عشق کی دنیا بکھر گئیYasir Rampuri (b. 1996)
- روئے روشن کی تاب نے مارااک نکھرتے گلاب نے ماراYasir Rampuri (b. 1996)
- زہے قسمت کہ قاصد یار کا لے کر پیام آیامگر افسوس صد افسوس وقت اختتام آیاYasir Rampuri (b. 1996)
- سرخ رخسار حسیں ہونٹ غزالی آنکھیںچاند چہرے پہ قیامت ہیں یہ کالی آنکھیںYasir Rampuri (b. 1996)
- شراب نوشی ہے دن رات شغل بادہ ہےتباہ کرنے کا خود کو مرا ارادہ ہےYasir Rampuri (b. 1996)
- کچھ اس ادا سے یار نے جوڑے کو بل دیادم بھر کو دو جہان کا نقشہ بدل دیاYasir Rampuri (b. 1996)
- مرضئ یار پہ ہر ایک خوشی وار چلےجو کچھ اپنا تھا وہ سب عشق میں ہم ہار چلےYasir Rampuri (b. 1996)
- نہ ہوگا سوز دل شاید کسی صورت بھی کم میرامجھے آزاد کر اب زندگی گھٹتا ہے دم میراYasir Rampuri (b. 1996)
- اس سے پہلے کہ سہاروں کو تو عادت کر لےدل بغیر اس کے سنبھلنے کی بھی ہمت کر لےG. R. Vashishth (b. 1996)
- پھر اس کے بعد تو سات آسماں اداس رہےوہ چاہتا تھا میرا سائباں اداس رہےG. R. Vashishth (b. 1996)
- جو چاہیے تھا وہ نہ ملا آسمان سےٹھکرا کے لوٹ آئے ستاروں کو شان سےG. R. Vashishth (b. 1996)
- دوست بن کر آئے کوئی اور گلے ہنس کر لگےایک عرصہ ہو گیا ہے پیٹھ میں خنجر لگےG. R. Vashishth (b. 1996)
- کبھی ڈرائے کبھی خود ہی ڈرنے لگتی ہےحیات حرکت اطفال کرنے لگتی ہےG. R. Vashishth (b. 1996)
- میں شاعر ہوں تو کیا روتا رہوں گالہو کے داغ ہی دھوتا رہوں گاG. R. Vashishth (b. 1996)
- یہ شفق فام زرد رو افرادسالہا سال سے اسیر حیاتDeedar Akbarpuri (b. 1996)
- چھوڑ امید اسے اب نہیں آنا شایدآنا بھی ہے تو نہیں ہم کو بتانا شایدMaaham Shah (b. 1997)
- درد دل کون آزماتا ہےکون بے چینیاں بڑھاتا ہےMaaham Shah (b. 1997)
- دل کے زخموں کا کچھ کیا نہ کروچاک ہو جائے تو سیا نہ کروMaaham Shah (b. 1997)
- رسم ہے یہ دنیا کی کھیل ہے یہ قسمت کاچاہتے جسے ہم ہیں وہ نہیں ہے چاہت کاMaaham Shah (b. 1997)
- غم جاناں غم دوراں بہت ہیں غم زمانے میںمگر جو غم کو اپنائے بہت ہیں کم زمانے میںMaaham Shah (b. 1997)
- کبھی عشق سے کبھی پیار سےکبھی موسموں کی بہار سےMaaham Shah (b. 1997)
- کیا سناؤں دل مضطر کا فسانہ تم کومیں نے چاہا تھا کبھی ایک زمانہ تم کوMaaham Shah (b. 1997)
- محبت ہو گئی جس کو اسے اب دیکھنا کیا ہےبھلا کیا ہے برا کیا ہے سزا کیا ہے جزا کیا ہےMaaham Shah (b. 1997)