اک سانس جدا کھینچ اگر کھینچ سکے تو
Daniyal Zaman (b. 1996)اک سانس جدا کھینچ اگر کھینچ سکے تو
اس گرد میں آ کھینچ اگر کھینچ سکے تو
جب آخری سر کاٹا تو کہنے لگا مجھ سے
اب سرخ ہوا کھینچ اگر کھینچ سکے تو
وہ ہاتھ چھڑاتا ہی رہا تا دم آخر
میں کہتا رہا کھینچ اگر کھینچ سکے تو
ہم رات کے پیرائے میں محدود نہیں ہیں
کچھ خواب ذرا کھینچ اگر کھینچ سکے تو
انصاف نہیں شور اگلتی ہے مرے دوست
زنجیر انا کھینچ اگر کھینچ سکے تو