سفر کی شرط پہ جو بھی بنی گزاری ہے

Daniyal Zaman (b. 1996)

سفر کی شرط پہ جو بھی بنی گزاری ہے

بدل بدل کے جگہ زندگی گزاری ہے

کوئی سلاخ نشیں سر اٹھا کے دیکھے گا

دریچے سے کسی نے روشنی گزاری ہے

کسی اضافے کی مجھ میں نہیں ہے گنجائش

بدن سمیٹنے میں زندگی گزاری ہے

پکارنا کسی کا حکم لگ رہا تھا مجھے

بس ایک تنکے پہ میں نے ندی گزاری ہے

زمانؔ کیسا چمکدار ہے ہنر تیرا

کہ تو نے خشک بدن سے نمی گزاری ہے