جینے کی تھی جو دل میں تمنا وہ مر گئی
Yasir Rampuri (b. 1996)جینے کی تھی جو دل میں تمنا وہ مر گئی
تم کیا گئے کہ عشق کی دنیا بکھر گئی
اللہ اس نگاہ کی تاثیر کیا کہوں
سینے کو چیرتی ہوئی دل میں اتر گئی
باب قبول پا نہ سکی میری ایک آہ
ہر چند لڑکھڑاتی ہوئی در بدر گئی
سینے پہ اس نے دست حنائی جو رکھ دیا
دل کی زمین بوئے محبت سے بھر گئی
آیا نہ کچھ خیال تجھے سوچنے کے بعد
دیکھا تجھی کو ہم نے جہاں تک نظر گئی
کس درجہ ہولناک تھا منظر حیات کا
دہشت کے مارے موت مجھے دیکھ ڈر گئی
یاسرؔ ہوا یہ فائدہ رونے سے عشق میں
آنسو بہے تو چہرے کی رنگت نکھر گئی
کٹ ہی نہ پائی ایک یہ ظالم شب فراق
سو بار ہم پہ آ کے قیامت گزر گئی