یہ ہنر تو تری تخلیق کی تشہیر سے ہے
Daniyal Zaman (b. 1996)یہ ہنر تو تری تخلیق کی تشہیر سے ہے
کوئی دیوار سے ہے اور کوئی تصویر سے ہے
اس کے انکار سے زندان کی بو آئے گی
اس کے لہجے میں توازن کسی زنجیر سے ہے
آپ کا اور مرا کیا کوئی تعارف بھی نہیں
جو یہاں ہو رہا ہے کیا سبھی تقدیر سے ہے
جب تو چمکا تو ضیا بانٹی گئی دنیا میں
روشنی کو بھی بصارت تری تنویر سے ہے
باپ نے بچوں کو اس طرح نشاں بتلائے
یہ وراثت سے ملی اور یہ شمشیر سے ہے
ربط ترتیب کی اک شکل ہے جیسے کہ زمانؔ
نیند کو خواب سے ہے خواب کو تعبیر سے ہے