برق رفتار ہم بھی دیکھتے ہیں

Daniyal Zaman (b. 1996)

برق رفتار ہم بھی دیکھتے ہیں

تو ہمیں مار ہم بھی دیکھتے ہیں

کیا لکھا ہے جو پڑھتے رہتے ہو

آج اخبار ہم بھی دیکھتے ہیں

اس قدر مت برائی کی جائے

تیرے بے کار ہم بھی دیکھتے ہیں

مسئلہ اس کو پار کرنا ہے

ورنہ دیوار ہم بھی دیکھتے ہیں

کتنا پانی ہے اور کتنے اشک

کیا ہے معیار ہم بھی دیکھتے ہیں

ایک بھی فاحشہ نہیں موجود

خشک بازار ہم بھی دیکھتے ہیں

دائرے کو غلط بنائے گا

اس کا پرکار ہم بھی دیکھتے ہیں