جھوٹ سچ خواب یقیں وہم گماں مرتے ہیں
Daniyal Zaman (b. 1996)جھوٹ سچ خواب یقیں وہم گماں مرتے ہیں
جو کہیں بھی نہیں مرتے وہ یہاں مرتے ہیں
سلب ہو جائے گی بینائی ہمیشہ کے لیے
تیری آنکھوں میں اگر خواب رساں مرتے ہیں
جینے لگ جائیں تو ہم جیتے ہیں بے نقش و نمود
مرنے لگ جائیں تو بے نام و نشاں مرتے ہیں
شور کے لطف سے آلود ہیں سب گلیاں اور
کسی کونے میں پڑے اہل زباں مرتے ہیں
کسی مظہر سے نمودار نہیں ہو پاتے
آخرش گمشدۂ زیست کہاں مرتے ہیں
کچی عمروں میں غلط فیصلے کرتے ہیں زمانؔ
تیرے مایوس ہمیشہ سے جواں مرتے ہیں