سرخ رخسار حسیں ہونٹ غزالی آنکھیں
Yasir Rampuri (b. 1996)سرخ رخسار حسیں ہونٹ غزالی آنکھیں
چاند چہرے پہ قیامت ہیں یہ کالی آنکھیں
پہلے کچھ خواب بھی تھے نیند بھی تھی اشک بھی تھے
تو جدا جب سے ہوا ہو گئیں خالی آنکھیں
ہونٹ بیتاب ہیں ان سب کے جوابات لیے
مجھ سے جو پوچھتی رہتی ہیں سوالی آنکھیں
خیر چہرہ تو بنا لوں گا میں جیسے تیسے
کس طرح اتریں گی کاغذ پہ خیالی آنکھیں
اپنے دکھ سے بھی سوا جن کو دکھے غیر کا دکھ
ڈھونڈ کر لائے کوئی ایسی مثالی آنکھیں
قابل رشک ہے اس شخص کی قسمت یاسرؔ
مل گئیں جس کو تجھے دیکھنے والی آنکھیں