اک ندی کی دھار کا لے کر سہارا آ گئے

Om Awasthi (b. 1996)

اک ندی کی دھار کا لے کر سہارا آ گئے

ساری دنیا گھوم کے تجھ تک دوبارہ آ گئے

کیوں اچانک نیند ان آنکھوں سے غائب ہو گئی

آپ خوابوں میں کسے دے کر اشارہ آ گئے

دوستی میں کھیل مطلب کا نہیں کھیلا گیا

سو اسی رشتے میں ہم لے کر خسارہ آ گئے

وہ ہمارا عکس تھا ہم سے جدا ہوتا کہاں

کرکے گھر کے آئنوں سے ہم کنارا آ گئے

اس نے اک اک لفظ سے سارا بدن چھلنی کیا

سوچ کر امید کا ہے دوش سارا آ گئے

اور پھر کیا ہارنے کو عشق میں باقی رہا

خود کو جب پہلی دفعہ کر کے تمہارا آ گئے