دھوئیں میں اڑ گئیں سانسیں سگار ختم ہوا

Om Awasthi (b. 1996)

دھوئیں میں اڑ گئیں سانسیں سگار ختم ہوا

اسی کے ساتھ ترا انتظار ختم ہوا

بدن سے کر کے الگ روح کو جہاں والے

یہ سوچ لیتے ہیں دنیا سے پیار ختم ہوا

تمہارا حسن بھی پھیکا پڑا اے ماہ جبیں

مرا بھی عاشقوں میں اب شمار ختم ہوا

کسی نے ہونٹوں پہ رکھ دی ہیں انگلیاں اپنی

اب اس سے آگے مرا اختیار ختم ہوا