کچھ اس ادا سے یار نے جوڑے کو بل دیا

Yasir Rampuri (b. 1996)

کچھ اس ادا سے یار نے جوڑے کو بل دیا

دم بھر کو دو جہان کا نقشہ بدل دیا

اب کے جنوں میں عالم وحشت کا ہے یہ حال

زنداں سے لوٹا میں تو بیاباں کو چل دیا

چہرے پہ ہے یہ نور عبادت کہ پھر اے شیخ

غازہ کسی نے لا کے ترے منہ پہ مل دیا

سوتے سے ان کی آنکھ کھلی جب اچھل پڑے

زلفوں کو اپنی سانپ سمجھ کر کچل دیا

رنج و ستم مصیبت و درد و غم و الم

میری وفا کا آپ نے کیا کیا نہ پھل دیا

شب حال کیا مریض محبت کا تھا نہ پوچھ

تڑپا تڑپ کے منہ سے لہو تک اگل دیا

ناز و ادا انہی کے اٹھائے تمام عمر

خود کی انا کو پاؤں کے نیچے مسل دیا