کس کس کو زیر آب ہوا کی تلاش ہے

Daniyal Zaman (b. 1996)

کس کس کو زیر آب ہوا کی تلاش ہے

کہتا ہے ہر حباب ہوا کی تلاش ہے

اس واسطے بگاڑ رہا ہوں غزل کو میں

احساس کو خراب ہوا کی تلاش ہے

سر پر پڑی ہوئی ہیں زمانے کی سختیاں

اس گرد کو جناب ہوا کی تلاش ہے

ہر سطر زندگی پہ ہے لکھا ہوا گھٹن

میرا سبھی نصاب ہوا کی تلاش ہے

کب سے بھٹک رہا ہے مری چشم حبس میں

کیا تجھ کو بھی اے خواب ہوا کی تلاش ہے

فتویٰ گران شہر ستم میں ہمیں زمانؔ

مرہم دعا شراب ہوا کی تلاش ہے