طویل رات کی گہرائیوں میں کچھ بھی نہیں

Om Awasthi (b. 1996)

طویل رات کی گہرائیوں میں کچھ بھی نہیں

یقیں نہیں تو شناسائیوں میں کچھ بھی نہیں

تمہارا ہجر اگر درمیاں سے ہٹ جائے

گھٹن کو چھوڑ کے تنہائیوں میں کچھ بھی نہیں

اداسیاں ہیں پرندے ہیں پیڑ ہیں میں ہوں

وہ کہہ رہا تھا کے ویرانیوں میں کچھ بھی نہیں

نکھار طرز بیانی سے آئے گا ان میں

سخن فروش ترے قافیوں میں کچھ بھی نہیں

گلوں کا حسن ہے پھیکا بغیر خوشبو کے

بنا سکون کے شادابیوں میں کچھ بھی نہیں