Poetry
Poet
Meter
- میں بہار دل شاعر ہوں تو اب سارے گلابکھل اٹھیں گے مری بو سے مرے جانے کے بعدMaaham Shah (b. 1997)
- نا احترام کا بس احترام کر بیٹھےہم اپنے کرب کا خود انتظام کر بیٹھےMaaham Shah (b. 1997)
- ہجر لازم ہے تو یہ ہجر نبھائے جاؤجا رہے ہو تو کوئی ربط بنائے جاؤMaaham Shah (b. 1997)
- کس کی آرزو تھی میںکس کی ہو گئی ہوں میںMaaham Shah (b. 1997)
- میں کراچی کی رہنے والی ہوںاک سمندر یہاں پے بہتا ہےMaaham Shah (b. 1997)
- اسے اپنا بنا کر دیکھنا ہےیہ جوکھم بھی اٹھا کر دیکھنا ہےGeetanjali Geet (b. 1997)
- دل گیا سانسوں کا اب غم کیا کریںتم بتاؤ جاں کہ اب ہم کیا کریںGeetanjali Geet (b. 1997)
- زندگی میں اور کوئی تو مری حسرت نہیںوقت تیرا چاہتی ہوں بس تری فرصت نہیںGeetanjali Geet (b. 1997)
- آج کے دن جو اپنےڈر کا اظہار کیا توGeetanjali Geet (b. 1997)
- جس طرح رات کوٹوٹے تارے کی نہیںGeetanjali Geet (b. 1997)
- چلے چلے جاتے ہیں قدمنظریں ملیںGeetanjali Geet (b. 1997)
- درد لکھا ہے اچھا لکھا ہےدل پر جو بیتی وہ کوئی بات نہیںGeetanjali Geet (b. 1997)
- سچا جھوٹھا جھوٹھا سچاوعدہ اک نادان کا ہےGeetanjali Geet (b. 1997)
- کوئی آئے نہ آئےتو آس لگانا چھوڑ دےGeetanjali Geet (b. 1997)
- یہ جو تم میری خامیاں گنائے جا رہے ہولکھ لوں کے ذرا یاد رہ جائےGeetanjali Geet (b. 1997)
- کچھ کہنا ہے اور کچھ نہ کہے چلے جانا یہ کب تک چلے گاتمہارا ہم پر یوں مر مر کے جیے جانا ایسا کب تک چلے گاGeetanjali Geet (b. 1997)
- کسی نے کہا کیسی پتھر دل ہے توکیا یہ کب ہوا نہیں توGeetanjali Geet (b. 1997)
- اے خدا حسرت و جذبات کے مارے ہوئے لوگاب کہاں جائیں یہ حالات کے مارے ہوئے لوگAamir Shauqi (b. 1997)
- اے خدا کیسا سماں آیا ہےشہر میں ہر سو دھواں چھایا ہےAamir Shauqi (b. 1997)
- تنہائی کی آغوش میں تھا صبح سے پہلےملتی رہی الفت کی سزا صبح سے پہلےAamir Shauqi (b. 1997)
- تیری امید کے اسباب نظر آتے نہیںکیوں مجھے کوئی حسیں خواب نظر آتے نہیںAamir Shauqi (b. 1997)
- ڈوبتے ڈوبتے سورج نے ضیائیں دیں ہیںتیری یادوں نے بہت دل کو صدائیں دیں ہیںAamir Shauqi (b. 1997)
- سرد موسم ہے بہت ہجر کا آزار بھی ہےکیا کہیں تجھ سے یہ دل غم میں گرفتار بھی ہےAamir Shauqi (b. 1997)
- کون سکھ چین سے ہے کس کی پذیرائی ہےتیری دنیا میں ہر اک موڑ پہ رسوائی ہےAamir Shauqi (b. 1997)
- مسئلے اور بھی ہیں عشق کے آزار کے ساتھصرف اک کرب نہیں عمر کی رفتار کے ساتھAamir Shauqi (b. 1997)
- موسم گل میں بھی گل نذر خزاں ہیں سارےمطمئن کوئی نہیں محو فغاں ہیں سارےAamir Shauqi (b. 1997)
- نصیب میں ہے جدائی تو رونا دھونا کیاہے ساری چیز پرائی تو رونا دھونا کیاAamir Shauqi (b. 1997)
- اس کو جتنا بھلا رہا ہوں میںاتنا نزدیک پا رہا ہوں میںUjjawal Vashishtha (b. 1997)
- اگر کر لیں ترا دیدار آنکھیںتو اچھی کیوں نہ ہوں بیمار آنکھیںUjjawal Vashishtha (b. 1997)
- تری خدمات میں بیٹھے ہوئے ہیںکہ سب اوقات میں بیٹھے ہوئے ہیںUjjawal Vashishtha (b. 1997)
- کہیں تو ہو طرف داری ہماریکبھی تو پیٹھ ہو بھاری ہماریUjjawal Vashishtha (b. 1997)
- گردن میں طوق پاؤں میں زنجیر دیکھ کرحیرت ہوئی ہے دوست کی تصویر دیکھ کرUjjawal Vashishtha (b. 1997)
- مبارک باد پھولوں کے لیے اور خار پر لعنتارے مالی اصولوں پر ترے کردار پر لعنتUjjawal Vashishtha (b. 1997)
- مبارک ہوں تجھے خیرات کے گلکھلیں گے پھر مرے حالات کے گلUjjawal Vashishtha (b. 1997)
- محبت میں بڑا چھوٹا نہیں ہےمگر ایسا کبھی ہوتا نہیں ہےUjjawal Vashishtha (b. 1997)
- جینا مشکل ہے یہاں آسان سب سے خودکشیاس لئے لگتی بھلی ہے زندگی سے خودکشیMadhav Jha (b. 1997)
- دل اگر بے قرار ہے تو ہےتم کو بھی مجھ سے پیار ہے تو ہےMadhav Jha (b. 1997)
- نہ منہ میں اک نوالہ جا رہا ہےفقط دھوکے میں ڈالا جا رہا ہےMadhav Jha (b. 1997)
- نہ ہی رنج ہے نہ ملال ہےتیرے ہجر کا یہ کمال ہےMadhav Jha (b. 1997)
- وہ جس کے آنے ہی سے بزم روشنی سے بھر گئیکہاں سے آئی تھی یہاں وہ کون تھی کدھر گئیMadhav Jha (b. 1997)
- ہو زمانہ ادھر ادھر ہم تمایک دوجے کے دل جگر ہم تمMadhav Jha (b. 1997)
- ہے گلہ اپنی جگہ اور عاشقی اپنی جگہدرد دل کے ساتھ ملنے کی خوشی اپنی جگہMadhav Jha (b. 1997)
- جب تجھ سے ملا ہوں تو تجھے یار کہا ہےجب مل نہ سکا ہوں تو دل آزار کہا ہےMaaz Aiz (b. 1997)
- ذرا انداز قضا اب کے کڑا لگتا ہےوہ نیا یار مرا شوخ بڑا لگتا ہےMaaz Aiz (b. 1997)
- میں نے لاکھ دیکھے ستم مگر یہ ترا ستم تو عجیب ہےکبھی پاس ہو کے بھی دور ہے کبھی دور ہو کے قریب ہےMaaz Aiz (b. 1997)
- اسی نے آدم کے نقش پا کو ازل کیا تھا بھرم رکھا تھازمیں پہ جلوہ فگن نہ ہو کر بھی جس نے پہلا قدم رکھا تھاOsama Khalid (b. 1998)
- برہنہ پا ہے بھٹکتی روحوں کو دودھ دیتی ہے پالتی ہےپھر ان کے جسموں پہ قہقہے پھینکتی ہے چہرے اداستی ہےOsama Khalid (b. 1998)
- بھرے کمرے میں اداسی کا اثر تنہا کیاجانے کیا بات تھی کیا سوچ کے گھر تنہا کیاOsama Khalid (b. 1998)
- پاؤں کا دھیان تو ہے راہ کا ڈر کوئی نہیںمجھ کو لگتا ہے مرا زاد سفر کوئی نہیںOsama Khalid (b. 1998)
- ٹھیک ہے ان دنوں خود پر ذرا غصہ ہوں میںپھر بھی اپنی سبھی حرکات کو تکتا ہوں میںOsama Khalid (b. 1998)