شراب‌ نوشی ہے دن رات شغل بادہ ہے

Yasir Rampuri (b. 1996)

شراب‌ نوشی ہے دن رات شغل بادہ ہے

تباہ کرنے کا خود کو مرا ارادہ ہے

سجی ہے عارضی مسکان تو لبوں پہ مگر

ہماری روح پہ زخموں کا اک لبادہ ہے

ادائیں جس کی قیامت ہیں چال ہے کافر

وہ شخص دیکھنے میں ہائے کتنا سادہ ہے

دکھوں نے آ کے بسا لی ہیں بستیاں کتنی

پتہ چلا تھا مرا دل بہت کشادہ ہے

تمہارے حسن کا چرچا ہے گر زمانے میں

ہمارا عشق بھی مجنوں سے کچھ زیادہ ہے

بتوں کی دھن میں گزاری تھی زندگی یاسرؔ

خدا کے نام پہ مرنے کا اب ارادہ ہے