نہ ہوگا سوز دل شاید کسی صورت بھی کم میرا

Yasir Rampuri (b. 1996)

نہ ہوگا سوز دل شاید کسی صورت بھی کم میرا

مجھے آزاد کر اب زندگی گھٹتا ہے دم میرا

زمیں دھنس جائے جھک جائے فلک ناکام ہو دنیا

اٹھانا چاہیں گر مل کر سبھی یہ بار غم میرا

اگر چاہو تو سینہ چاک کر کے دل دکھاتا ہوں

بیاں لفظوں میں ہو سکتا نہیں درد و الم میرا

اثر ہوتا ہے الٹا حد سے جب بڑھنے لگے کچھ بھی

بڑھا اتنا کہ آخر بن گیا تسکین غم میرا

قدم رکھا ہی تھا اس شخص نے اس دل کی چوکھٹ پر

زمیں سے لگ گیا تعظیم میں سر ہو کے خم میرا

تمہی دنیا تھے میری تم جو بچھڑے لٹ گئی دنیا

اجڑ کر رہ گیا پل بھر میں سب جاہ و حشم میرا

نصیحت سن رہا ہوں شیخ کی بوتل پہ نظریں ہیں

نگاہیں سوئے مے خانہ ہیں رخ سوئے حرم میرا

ہزاروں راستے طے کر کے بھی یاسرؔ مسافر ہوں

نہ جانے کون سی منزل کا خواہاں ہے قدم میرا