پھینکی ہے فتح یاب نے دستار کھینچ کر

Om Awasthi (b. 1996)

پھینکی ہے فتح یاب نے دستار کھینچ کر

پہلے یہ کام ہوتا تھا تلوار کھینچ کر

اجداد سے سنا تھا ادھر اپنے لوگ ہیں

اک روز چاہ لے گئی اس پار کھینچ کر

تقدیر میری من کے مطابق نہیں ہوئی

دیکھی ہے اک لکیر کئی بار کھینچ کر

یاد آئے گا تمہیں یہ سفر میں کئی جگہ

آنکھوں میں تم سمیٹ لو گھر بار کھینچ کر