تڑپ ایسی کہ بس دن رات آہیں بھرتے جاتے ہیں
Yasir Rampuri (b. 1996)تڑپ ایسی کہ بس دن رات آہیں بھرتے جاتے ہیں
تمہارے عشق میں بے موت عاشق مرتے جاتے ہیں
ادھر وہ بت بنے بیٹھے ہوئے تکتے ہیں صورت کو
ادھر رو رو کے عرض مدعا ہم کرتے جاتے ہیں
لگاتا ہے گلے سے اپنی محفل میں وہ غیروں کو
بس اک ہم سے ہی آداب تکلف برتے جاتے ہیں
یہ دل بھی ہولے ہولے غم کا عادی ہوتا جاتا ہے
جگر کے زخم سارے رفتہ رفتہ بھرتے جاتے ہیں
گزرتی ہے جو کچھ دل پر رقم ہم کرتے جاتے ہیں