ممکن نہیں ہے جو یہاں ہا ہو نکال دے
Daniyal Zaman (b. 1996)ممکن نہیں ہے جو یہاں ہا ہو نکال دے
اس مشتعل ہجوم سے آ تو نکال دے
جو چشم نیم وا سے سحر دیکھتا رہا
وہ شب کے جانے کون سے پہلو نکال دے
میں چھینتا ہوں رنگ کی وحشت گلاب سے
تو باغباں کے ہاتھ سے خوشبو نکال دے
کیا جانئے لے جائے وہاں کون سا فسوں
محفل سے اس کی کون سا جادو نکال دے