روئے روشن کی تاب نے مارا

Yasir Rampuri (b. 1996)

روئے روشن کی تاب نے مارا

اک نکھرتے گلاب نے مارا

کچھ تو مارے گئے نگاہوں سے

باقیوں کو نقاب نے مارا

سارا دن یاد نے ڈسا ان کی

رات آئی تو خواب نے مارا

لے کے قاصد جو لوٹا کچھ پرزے

ایسے خط کے جواب نے مارا

مر گیا زہر پی کے اک مے نوش

لوگ سمجھے شراب نے مارا

کچھ جہاں میں نہ کر سکا یاسرؔ

فکر روز حساب نے مارا