میں گام گام پہ جو سانس سانس مرتا ہوں
Daniyal Zaman (b. 1996)میں گام گام پہ جو سانس سانس مرتا ہوں
یہ زندگی وہ تکبر ہے جو میں کرتا ہوں
صراط ہجر خط مستقیم ہوتا ہے
میں ایک پر چلوں تو دونوں سے گزرتا ہوں
یہ شش جہات مرے شانوں پر ٹھہرتے ہیں
یہ نقش بعد میں ہے پہلے میں ابھرتا ہوں
عجیب خوف ہے یکسانیت سے بڑھتا ہے
تمام رات میں لوگوں کی طرح ڈرتا ہوں
جناب نے من و سلویٰ سمجھ لیا ہے مجھے
جو آسمان سے ان کے لیے اترتا ہوں
کوئی نفیس لبادہ ہی زیب تن کر دو
میں اچھے کپڑے پہن کر اگر سنورتا ہوں