Poetry
Poet
Meter
- پیار کا دشمن سارا زمانہ کل بھی تھا اور آج بھی ہےدنیا بدلی موسم بدلا لیکن میرا یار نہیںTabish Raihan (b. 1986)
- چھوڑ کے فرزانوں کی محفل تنہا اس دیوانے کوحضرت ناصح کیوں آ جاتے ہیں اکثر سمجھانے کوTabish Raihan (b. 1986)
- دشمن مرے پیچھے ہے تو دریا مرے آگےاب کوئی بچا ہی نہیں رستہ مرے آگےTabish Raihan (b. 1986)
- رونق جہاں کی سچ ہے فقط آدمی سے ہےلیکن نظام دہر بھی برہم اسی سے ہےTabish Raihan (b. 1986)
- سبھی دو گھڑی کے ہیں میہماں یہاں روز کس کا قیام ہےجو وفا کی راہ میں مٹ گئی اسی زندگی کو دوام ہےTabish Raihan (b. 1986)
- کسی کے آنکھ دکھانے سے کچھ نہیں ہوگاہم اہل حق ہیں ڈرانے سے کچھ نہیں ہوگاTabish Raihan (b. 1986)
- گیسوئے ہوش و متانت کو بکھرنے نہ دیامیں نے چاہت کو کبھی حد سے گزرنے نہ دیاTabish Raihan (b. 1986)
- نا اہل اور نکمے سوا اس کے کیا کریںبیٹھے ہر ایک شخص پہ بس تبصرہ کریںTabish Raihan (b. 1986)
- ہم نہ کہیں گے خود ہی بتاؤ کیا یہ اچھا کرتے ہوپھول سے نازک جسم کے اندر پتھر سا دل رکھتے ہوTabish Raihan (b. 1986)
- اک ماہ رو سے کل کی ملاقات بھی گئییوں میرے دل سے گرمئ جذبات بھی گئیFaizan Asad (b. 1986)
- اللہ بشر جاہ و حشم بیچ رہے ہیںخود ساختہ پتھر کے صنم بیچ رہے ہیںFaizan Asad (b. 1986)
- در بدر مزدور کی تقدیر سوچمر گیا ہے کیوں بھلا رہ گیر سوچFaizan Asad (b. 1986)
- دروغ گوئی کی فطرت کو آگ لگ جائےتمہاری دوغلی صورت کو آگ لگ جائےFaizan Asad (b. 1986)
- زخم ہجراں کی مداوات سے پہلے پہلےدرد رقصاں ہے ملاقات سے پہلے پہلےFaizan Asad (b. 1986)
- زندگی بھر دوڑتا ہے بیٹھ جاغم کہاں کب بولتا ہے بیٹھ جاFaizan Asad (b. 1986)
- سنا تو ہوگا ہی سرکار جھوٹ بولتے ہیںنہاں نہیں سر بازار جھوٹ بولتے ہیںFaizan Asad (b. 1986)
- کیسے جی پاؤں گا جدا ہو کرجا رہا ہے کوئی خفا ہو کرFaizan Asad (b. 1986)
- یہ کمرہ کیوں پراگندہ پڑا ہےمکیں پر کون سا دورہ پڑا ہےFaizan Asad (b. 1986)
- اب مریض عشق کو کیسا ٹھکانہ چاہیےآتش دل کو ہوا پر آشیانہ چاہیےChitra Bhardwaj suman (b. 1986)
- ابھی ہجر دامن میں اترا نہیں ہےمگر وصل کا بھی تو چرچا نہیں ہےChitra Bhardwaj suman (b. 1986)
- تمام عمر ہی وہم و گمان میں گزریمری تو پیاس سرابوں کے دھیان میں گزریChitra Bhardwaj suman (b. 1986)
- جسم و جاں پر کسی جوگی کا میں سایہ دیکھوںعشق کی تال پہ جوگن کا تھرکنا دیکھوںChitra Bhardwaj suman (b. 1986)
- ساتھ موسم کے ہوا کو بھی مچل جانا تھادھوپ کو شمس کی باہوں میں پگھل جانا تھاChitra Bhardwaj suman (b. 1986)
- کچھ دنوں تک ہی شناسائی رہیپھر میری شب میری تنہائی رہیChitra Bhardwaj suman (b. 1986)
- کہہ دیا یوں ہی بے وفا مجھ کوبات آخر ہے کیا بتا مجھ کوChitra Bhardwaj suman (b. 1986)
- نگاہ مست سے اوجھل ہیں منزلیں دل کیہیں اپنی آخری سانسوں پہ چاہتیں دل کیChitra Bhardwaj suman (b. 1986)
- اداس نینا جو برستے ہیں سحاب کی طرحتو غم کے پھول بھی مہکتے ہیں گلاب کی طرحVandana Bhardwaj Tiwary Vani (b. 1986)
- جاگے سے کتنے گھر دیکھے رات کی خامشی میںدیوار پہ سائے ہی تو تھے رات کی خامشی میںVandana Bhardwaj Tiwary Vani (b. 1986)
- خواہشیں آئیں اندھیروں کی سی فطرت اوڑھےپھر غم آیا چڑھتی راتوں کی سی خصلت اوڑھےVandana Bhardwaj Tiwary Vani (b. 1986)
- یادوں کی راکھ میں ہر لمحہ دھواں دھواں ہےہونٹوں پہ بکھرا ہر اک نغمہ دھواں دھواں ہےVandana Bhardwaj Tiwary Vani (b. 1986)
- اپنی بستی میں اندھیرا نہیں ہونے دیں گےجیسا تم چاہو گے ویسا نہیں ہونے دیں گےUmair Ali Anjum (b. 1987)
- ترے ہجر نے جو ستم کیا کوئی دیکھتامری وحشتیں مرا رتجگا کوئی دیکھتاUmair Ali Anjum (b. 1987)
- تو مرے سامنے ہنستا بھی ہے روتا بھی ہےکیا ترے دل میں کوئی میرے علاوہ بھی ہےUmair Ali Anjum (b. 1987)
- چھوٹی سی بات پر ترا لہجہ بدل گیاتو دیکھتے ہی دیکھتے کیسا بدل گیاUmair Ali Anjum (b. 1987)
- روز کٹتے ہیں یہاں ہاتھ کمانے والےجینے دیتے نہیں مفلس کو زمانے والےUmair Ali Anjum (b. 1987)
- سن رہا ہوں قربتوں میں فاصلہ ہونے کو ہےاس قدر تو ہو گیا اب اور کیا ہونے کو ہےUmair Ali Anjum (b. 1987)
- گردش وقت کا منظر نہیں دیکھا جاتایار کے ہاتھ میں خنجر نہیں دیکھا جاتاUmair Ali Anjum (b. 1987)
- مری حیات کو یوں پائمال اس نے کیاکہ میرا درد سے رشتہ بحال اس نے کیاUmair Ali Anjum (b. 1987)
- مرے ہم سخن مرے ہم نوا تری خیر ہوتو وصال رت میں جدا ہوا تری خیر ہوUmair Ali Anjum (b. 1987)
- میرے ہی آنسوؤں کے شکستہ بہاؤ پرمجھ کو بٹھا گیا کوئی کاغذ کی ناؤ پرUmair Ali Anjum (b. 1987)
- ہم نے یوں خود سے ترا ذکر کیا شام کے بعدجیسے گلشن میں چلے سرد ہوا شام کے بادUmair Ali Anjum (b. 1987)
- یہاں تو پون صدی سے یہی کہانی ہےاصول مر گئے طاقت کی حکمرانی ہےUmair Ali Anjum (b. 1987)
- ایک حسرت میں ڈھل کے ڈستی ہےابر سے بیکلی برستی ہےObaidurrahman Niyazi (b. 1987)
- پسند نا پسند کا کوئی بھی ضابطہ نہیںکبھی بھلا بھی ہے برا کبھی برا برا نہیںObaidurrahman Niyazi (b. 1987)
- تیز آندھی سے خفا ہے کوئیٹوٹ کر برگ گرا ہے کوئیObaidurrahman Niyazi (b. 1987)
- جو میری روح کی گہرائیوں میں اترا تھاوہ ایک نرم ملائم ہوا کا جھونکا تھاObaidurrahman Niyazi (b. 1987)
- دشت کے بیچ میں تالاب نظر آتے ہیںہم غریبوں کو فقط خواب نظر آتے ہیںObaidurrahman Niyazi (b. 1987)
- ساری دنیا گنوا کے بیٹھا ہوںاپنی دنیا بنا کے بیٹھا ہوںObaidurrahman Niyazi (b. 1987)
- سایہ کیے ہوئے تھا جو بادل نہیں رہاآفات کا یہ مہر مگر ڈھل نہیں رہاObaidurrahman Niyazi (b. 1987)
- کسی کے پاؤں کی رگڑ سے آگ سی لگی تو تھی کدھر گئینظر تو آئی تھی مجھے ذرا سی دیر روشنی کدھر گئیObaidurrahman Niyazi (b. 1987)