سن رہا ہوں قربتوں میں فاصلہ ہونے کو ہے

Umair Ali Anjum (b. 1987)

سن رہا ہوں قربتوں میں فاصلہ ہونے کو ہے

اس قدر تو ہو گیا اب اور کیا ہونے کو ہے

جانے کیوں آنکھوں میں آنسو آ رہے ہیں دیر سے

آج پھر شاید کوئی مجھ سے جدا ہونے کو ہے

شہر کیوں سنسان ہے ویران کیوں ہیں راستے

ہو چکا ہے حادثہ یا حادثہ ہونے کو ہے

ہر طرف نعرے لگائے جا رہے ہیں انقلاب

ایسا لگتا ہے کہ پھر محشر بپا ہونے کو ہے

ہر طرف لاشیں ہیں انجمؔ ہر گلی ہے سوگوار

اور کیا اس سرزمیں پر کربلا ہونے کو ہے