در بدر مزدور کی تقدیر سوچ
Faizan Asad (b. 1986)در بدر مزدور کی تقدیر سوچ
مر گیا ہے کیوں بھلا رہ گیر سوچ
عالم پژمردگی کے درمیاں
حوصلوں سے پر کوئی تحریر سوچ
آ کے مقتل میں تذبذب کس لئے
خواب دیکھا ہے تو پھر تعبیر سوچ
اک مکان مختصر سے خوش نہ ہو
یہ زمیں ہو کس طرح تسخیر سوچ
ظلم سہنا ظلم کی تائید ہے
کیسے ٹوٹے ظلم کی زنجیر سوچ
بے سبب تخریب گلشن روک دے
پھول ہو جائیں اگر شمشیر سوچ
تو نگاہوں سے چراتا ہے سکوں
یہ خطا ہے لائق تعزیر سوچ
لاش بچے کی لئے ساکت ہے وہ
کیوں نہ رویا صاحب تصویر سوچ
سب تو اپنے تھے عدو کوئی نہ تھا
کر دیا پیوست کس نے تیر سوچ
شکوۂ افلاس اسعدؔ چھوڑ کر
کیوں بکی اجداد کی جاگیر سوچ