میرے ہی آنسوؤں کے شکستہ بہاؤ پر

Umair Ali Anjum (b. 1987)

میرے ہی آنسوؤں کے شکستہ بہاؤ پر

مجھ کو بٹھا گیا کوئی کاغذ کی ناؤ پر

میرے پروں کو کاٹ کے وہ ساتھ لے گیا

اب تو میں اڑ رہا ہوں ہوا کے دباؤ پر

بگڑی ہوئی ہے چال کچھ ایسی ترے بغیر

جیسے میں چل رہا ہوں سلگتے الاؤ پر

کتنا حسین خواب دکھائی دیا مجھے

مرہم لگا رہا تھا کوئی میرے گھاؤ پر

منزل تلک پہنچنے کا کہتا رہا مگر

مجھ سے نظر چرا گیا پہلے پڑاؤ پر

اس سے کہو عمیرؔ وہ لوٹ آئے ایک بار

آئی ہوئی ہے زندگی اب چل چلاؤ پر