Poetry
Poet
Meter
- کوہ خدشات سر ہوا ہی نہیںپار کیا ہے میں جانتا ہی نہیںObaidurrahman Niyazi (b. 1987)
- میں جو مردہ ہوں جیوں گا اک روزتجھ سے میں آن ملوں گا اک روزObaidurrahman Niyazi (b. 1987)
- آپ نگاہ مست سے پتھر کو آب کیجیےتھامیے آب ہاتھ میں اور شراب کیجیےQamar Aasi (b. 1987)
- بے ثمر صحبتوں سے بہتر ہیںرنجشیں الفتوں سے بہتر ہیںQamar Aasi (b. 1987)
- چندا بھی بس رات میں اچھا لگتا ہےہر بندہ اوقات میں اچھا لگتا ہےQamar Aasi (b. 1987)
- حسن والوں کا سر ساحل نظارہ ہے کہ نئیںڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہے کہ نئیںQamar Aasi (b. 1987)
- دشمن سے اتحاد کے چکر میں پڑ گیاہر دوست اب مفاد کے چکر میں پڑ گیاQamar Aasi (b. 1987)
- عاقل ہے با شعور ہے کافی ذہین بھیاس پر ہے مستزاد وہ از حد حسین بھیQamar Aasi (b. 1987)
- کچھ ایسے چشم تمنا کو آزمایا گیاکسی بھی عکس کو پورا نہیں دکھایا گیاQamar Aasi (b. 1987)
- کسی حکیم نہ عطار سے شفا ہوگیوصال حسن طرح دار سے شفا ہوگیQamar Aasi (b. 1987)
- میں نے کچھ اشعار جوں ہی آئنے پر دم کیےعکس تیرا لا دکھایا اس نے سر کو خم کیےQamar Aasi (b. 1987)
- وقت رخصت مری ماں نے مرا ماتھا چومامنزلوں نے تبھی بڑھ کر مرا تلوا چوماQamar Aasi (b. 1987)
- جس کی خاطر سجائی محفل ہےکیوں رسائی اسی کی مشکل ہےIbrahim Noori (b. 1988)
- جو زندگی میں کبھی جستجو نہیں کرتامرا خدا بھی اسے سرخ رو نہیں کرتاIbrahim Noori (b. 1988)
- کبھی نہ پہنچے گا نقصان عشق کے ہاتھوںملے گا درد کا درمان عشق کے ہاتھوںIbrahim Noori (b. 1988)
- کس قدر خوش نصیب ہوتے ہیںجو شریف و نجیب ہوتے ہیںIbrahim Noori (b. 1988)
- کوئی دیا سر دوش ہوا جلا دوں گاہوائے شہر ستم کو میں یوں سزا دوں گاIbrahim Noori (b. 1988)
- کیا ہے کام یہ لیل و نہار آنکھوں نےدکھایا جلوۂ پروردگار آنکھوں نےIbrahim Noori (b. 1988)
- مری بستی میں جتنی لڑکیاں ہیںخدا کا شکر پردے والیاں ہیںIbrahim Noori (b. 1988)
- منفرد لہجہ جدا طرز بیاں رکھتے ہیں ہمشاعری کے واسطے اردو زباں رکھتے ہیں ہمIbrahim Noori (b. 1988)
- میں اہل زر بھی نہیں اہل سلطنت بھی نہیںسو میرا کوئی خبر گیر خیریت بھی نہیںIbrahim Noori (b. 1988)
- وقت مشکل ہے پہ یہ وقت گزر جائے گایار و اغیار کا ہاں فیصلہ کر جائے گاIbrahim Noori (b. 1988)
- وہ جس سے پیار میں دیوانہ وار کرتا رہاوہ پیٹھ پیچھے مرے مجھ پہ وار کرتا رہاIbrahim Noori (b. 1988)
- وہ مار دے گا اگر خنجر تبسم سےتو گنگناؤں گا کیسے غزل ترنم سےIbrahim Noori (b. 1988)
- یاد الفت کی کہانی ہے الف سے ی تکیہ تجھے آج سنانی ہے الف سے ی تکIbrahim Noori (b. 1988)
- اس چشم اشک بار کی ضد رائیگاں تو ہومیری فصیل صبر کا کوئی نشاں تو ہوCharagh Barelvi (b. 1988)
- بے سبب چاک پر دھرے تھے ہمبنتے بنتے بھی کیا بنے تھے ہمCharagh Barelvi (b. 1988)
- پیاس کو دریا رہا اور خاک کو صحرا رہااس کے معنی یہ ہوئے کے یہ سفر اچھا رہاCharagh Barelvi (b. 1988)
- جانے وہ چیز کیا تھی جو چمکی زمین پراجلے سے لوگ آ گرے میلی زمین پرCharagh Barelvi (b. 1988)
- جب تماشے کا نہ ہو چھوڑ کے آنے کا ملالکیوں ہو پھر کھیل کے آداب نبھانے کا ملالCharagh Barelvi (b. 1988)
- خود اپنے پاؤں کے نیچے بھنور بناتا ہوںمیں اک سرائے کو ہر روز گھر بناتا ہوںCharagh Barelvi (b. 1988)
- ڈوبتے وقت جو کچھ ہاتھ میں گوہر آئےسب کے سب ناخدا کے ہاتھ میں ہم دھر آئےCharagh Barelvi (b. 1988)
- راستے گھر تمام پتھر کےہر طرف تام جھام پتھر کےCharagh Barelvi (b. 1988)
- سچ چھپاتی رہی ہوا یعنیدشت کا حال اور تھا یعنیCharagh Barelvi (b. 1988)
- طے ہوا دن کہ کھلے شام کے بستر چلیےپاؤں کو حکم تھکن کا ہے کہ اب گھر چلیےCharagh Barelvi (b. 1988)
- ہم کو رکھنی تھی سو اک چاک پہ رکھ دی مٹیکوزہ گر جانے کہ کس شکل ڈھلے گی مٹیCharagh Barelvi (b. 1988)
- یوں بھی میرا بیاں الگ ہے کچھکیوں کہ میری زباں الگ ہے کچھCharagh Barelvi (b. 1988)
- اٹھ اس ہجوم سے اے بے وفا علاحدہ ہومرا حساب چکا دے ذرا علاحدہ ہوFaisal Imam Rizvi (b. 1988)
- تیرے لہجے تری باتوں میں کوئی اور بھی تھایوں ترے چاہنے والوں میں کوئی اور بھی تھاFaisal Imam Rizvi (b. 1988)
- خریدنے کا نئے پھول کچھ ارادہ نئیںکسے ملیں کہ ہمارا کسی سے وعدہ نئیںFaisal Imam Rizvi (b. 1988)
- کس نے اس دشت میں گھر بار لٹانا ہے میاںایسے ویرانے کو ہم نے ہی سجانا ہے میاںFaisal Imam Rizvi (b. 1988)
- کسی کی زلف کسی کے لبوں کو چاہا تھافریب دیتی ہوئی صورتوں کو چاہا تھاFaisal Imam Rizvi (b. 1988)
- لٹائے بیٹھا ہوں رخت سفر محبت میںلگائے بیٹھا ہوں میں گھر کا گھر محبت میںFaisal Imam Rizvi (b. 1988)
- میری صورت سے وہ انجان بھی ہو سکتا ہےمیرے ملنے سے وہ حیران بھی ہو سکتا ہےFaisal Imam Rizvi (b. 1988)
- نہ موم ہوں نہ سنگ ہوں ملنگ ہوںمیں خود سے خود کی جنگ ہوں ملنگ ہوںFaisal Imam Rizvi (b. 1988)
- نئی زمین عطا ہو نیا مکاں بھی بنےہمارے ہجر کا کچھ منفرد نشاں بھی بنےFaisal Imam Rizvi (b. 1988)
- یقین جاتا رہا اعتبار ختم ہواتمہارے عشق کا سارا خمار ختم ہواFaisal Imam Rizvi (b. 1988)
- اس نے بھی خود کو بے کنار کیاجس کا ساحل نے انتظار کیاNaeem Raza Bhatti (b. 1988)
- بات یہ ہے کہ بات کوئی نہیںمیں اکیلا ہوں ساتھ کوئی نہیںNaeem Raza Bhatti (b. 1988)
- جس سے فلک پڑے گی دل پائمال میںوہ کہکشاں نہیں ہے ترے خد و خال میںNaeem Raza Bhatti (b. 1988)