رونق جہاں کی سچ ہے فقط آدمی سے ہے
Tabish Raihan (b. 1986)رونق جہاں کی سچ ہے فقط آدمی سے ہے
لیکن نظام دہر بھی برہم اسی سے ہے
یکساں معاملہ کہاں سب کا سبھی سے ہے
نفرت کسی سے ہے تو محبت کسی سے ہے
میرے ہر ایک شعر میں ہے آپ کی جھلک
وابستہ میری شاعری بس آپ ہی سے ہے
مرتا ہے کوئی بھوک سے اس کی کسے خبر
سب کو غرض بس اپنی شکم پروری سے ہے
رونق تمہاری بزم میں پہلے کہاں یہ تھی
ساری چہل پہل مری موجودگی سے ہے
اس کو نصیب چین و سکوں کیا ہو اے خدا
بیزار جس کا قلب تری بندگی سے ہے
دانا کی دشمنی سے تو خطرہ نہیں کوئی
نادان دوستوں کی مگر دوستی سے ہے
مرنا بھی چاہتا نہیں تابشؔ کوئی یہاں
شکوہ بھی صبح شام مگر زندگی سے ہے